ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں لڑکےکے اغوا کا معاملہ کیسے ہوا حل ؟ کیسے کیا گیا لڑکے کو گوا سے بازیافت ؟

بھٹکل میں لڑکےکے اغوا کا معاملہ کیسے ہوا حل ؟ کیسے کیا گیا لڑکے کو گوا سے بازیافت ؟

Tue, 23 Aug 2022 18:10:11    S.O. News Service

بھٹکل 25 اگست (ایس او نیوز)  سنیچر 20 اگست  کی رات کو آزاد نگر/کوگتی  سے جس آٹھ سالہ معصوم لڑکا علی سعدا کو اغوا کیا گیا تھا،  اسے قریب33     گھنٹوں بعد  گوا کے ایک ہوٹل سے بازیافت کیا گیا اوراسے بحفاظت بھٹکل اُس کے گھر پہنچایا گیا جس کے ساتھ ہی شہر کے عوام نے راحت کی سانس لی، ورنہ اغوا کی جو ویڈیو کلپ سو شیل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی وہ شہر کے عوام میں خوف وہراس پھیلانے والی تھی  کیونکہ کلپ دیکھنے سے لگ رہا تھا کہ شمالی ہندوستان کے شہروں میں جس طرح بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے ، کہیں اب اس طرح کی  وارداتیں بھٹکل میں بھی شروع  نہ ہوگئی ہوں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا کہ ایک وین  علی سعدا کے گھرسے تھوڑے  فاصلے پرآکر رُکتی ہے،  اُس میں سے ایک شخص باہر نکلتا ہے اورراہ چلتے معصوم علی کو اُٹھا کر سیدھے وین میں ڈال دیتا ہے اور پھر پل بھر میں وین فرارہوجاتی ہے۔

جیسا کہ پولس نے بتایا تھا ،  سعودی عربیہ میں مقیم عنایت اللہ اسحاقی نے اپنی سگی بھانجی کے شوہر معین  الاسلام  سعدا کو  دی ہوئی  اپنی اُدھار  کی رقم  واپس حاصل کرنے کے  لئے اسلام سعدا پر دباو بنانا چاہتا تھا، اسی مقصد کے تحت اس نے  اسلام سعدا کے آٹھ سالہ معصوم بچے کو اغوا کرنے بھٹکل چوتنی میں اپنی چکن کی دکان چلانے والے   انیس باشہ کو ہدایت دی تھی۔ پتہ  چلا ہے کہ انیس باشہ نے  اپنے  ایک دوست عبدالحنان کو  ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر لڑکے کا اغوا کرے۔

مختلف ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق   انیس باشہ  نے کنداپور سے ماروتی ایکو وین کو کرائے پر حاصل کیا  اور عبدالحنان  اور ابرار کی مد د سے سنیچر20 اگست کی شام قریب آٹھ بجے لڑکے کا اغوا کرایا۔     پتہ چلا ہے کہ   اُس  وین کو غالباً ابرار چلا رہا تھا۔ جبکہ وین سے باہر نکل کر بچے کو اُٹھاکر وین میں ڈالنے والا غالباً  عبدالحنان  تھا، سی سی ٹی وی فوٹیج پر دیکھا گیا تھا کہ لڑکے کو اُٹھانے سے پہلے ایک شخص متعلقہ مقام سے پیدل چل کرجائزہ لیتا ہوا دکھائی دیا تھا، آگے چل کر وہ اسی وین میں جاکر بیٹھتا ہوا دیکھا گیا تھا، پتہ چلا  ہےکہ وہ  انیس باشہ  تھا ۔  وین لڑکے کو اُٹھاکرآزاد نگر سے جالی روڈ ہوتے ہوئے نیشنل ہائی وے کے ذریعے گوا کے لئے نکل گئی تھی۔ لیکن غالباً راستے میں ہی کہیں پر انیس باشہ اُترگیا، پھرعبدالحنان اور ابرار دونوں لڑکے کو لے کر سیدھے گواجانے کے لئے نکل پڑے ۔ انکولہ پہنچنے کے بعد انہوں نے گاڑی بدل دی۔

پتہ چلا ہے کہ بھٹکل سے دوسری وین لے کرمحمد منصور انکولہ پہنچ گیا ۔ محمد منصور دراصل کار ڈرائیور ہے، اس نے بدریہ کالونی کے کسی شخص سے وین کو کرائے پرحاصل کیا تھا،   اس  وین پران تینوں نے لڑکے کو گوا کے کلنگوڈ   لے گئے  اور اُسے  ایک ایسے   ہوٹل    میں  رکھا  جہاں اس سے پہلے عبدالحنان ملازمت کرچکا تھا، اس وجہ سے ہوٹل   والوں سمیت علاقہ کے  کئی لوگ بھی  عبدالحنان  کو  پہلے سے جانتے تھے۔ 

بتاتے چلیں کہ 20 اگست بروز سنیچر رات قریب آٹھ بجے آٹھ سالہ علی بریڈ لانے کے لئے  گھر کے قریب موجود دکان پر گیا تھا، بریڈ لے کر وہ واپس آہی  رہا تھا کہ اچانک وین وہاں آکر رُکی، ایک شخص اُترا اورعلی کو  وین میں ڈال دیا۔ معصوم بچہ علی نے جب چینخنے اور چلانے کی کوشش کی تو اُسی وقت اسے چاقو دکھا کر ڈرایا اور دھمکایا گیا کہ اگر آواز نکالی تو  چاقو گھونپ دیا جائے گا۔

لڑکا بازیافت کیسے ہوا؟ : لڑکے کو صحیح سلامت  گوا سے بازیافت کرانے میں سب سے اہم  رول قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل  کی ٹیم نے نبھایا  ، جنہوں نے پتہ لگایا کہ لڑکے کوکلنگوڈ  میں واقع  ہوٹل  کے ایک کمرہ میں رکھا گیا ہے۔ تنظیم جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی،  عنایت اللہ شا بندری  اور بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے صدر عزیز الرحمٰن رکن الدین ندوی  وغیرہ محکمہ پولس  کے  رابطے میں تھے  اور پولس کی مدد سے کام کو آگے بڑھارہے تھے۔ تنظیم  کی ہدایت پر گوا  کے لئے نکلنے  والی ٹیم میں مولانا عرفان ایس ایم ندوی،   عبدالسمیع میڈیکل،  محمد صادق مٹا، ابو عُبید اسحاقی اور عمران  افریقہ  شامل تھے۔

پتہ چلا ہے کہ ملزم عبدالحنان کے قریبی رشتہ داروں نے  جس میں  اس کے بھائی بھی شامل ہیں نے  اغوا شدہ لڑکے کو   صحیح سلامت  بازیافت کرانے  میں  پولس کے ساتھ  بھرپور  تعاون کیا۔  یہاں تک کہ   عبدالحنان کے بھائیوں نے گاڑی کی شناخت کرنے کے ساتھ ساتھ پولس کو  اس بات کی بھی جانکاری دی  تھی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج پر   لڑکے کے گھر  کے سامنے سے پیدل چل کر  وین پر بیٹھنے والا  انیس باشہ ہے، اس بات کا پتہ چلنے کے بعد     عبدالحنان کے دو بھائیوں کے ساتھ  ان کا دوست  نعمت اللہ موٹیا  پولس ٹیم کے ساتھ لڑکے کو بازیافت کرانے  اتوار دوپہر قریب دو بجے ہی   گوا کے لئے نکل پڑے تھے، چونکہ  عبدالحنان کا موبائل نمبرٹریک پر ڈالا گیا تھا اس بنا پر توقع کی جارہی تھی کہ   رات تک لڑکے کو  بازیافت کرایا  جائے گا، انکولہ کراس کرنے  تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ لیکن  جب پولس ٹیم کاروار کے قریب  پہنچی تو عبدالحنان نے اپنے موبائل کا سم بدل دیا  اور پولس کو چکمہ دینے کی کوشش کرنے لگا،  اس دوران  گوا بارڈر پر  پولس نے موبائل  کے ذریعے محمد منصور  کو  ٹریس کرتے ہوئے اُسے گرفتار کرلیا ۔جبکہ  پولس کی دوسری ٹیم نے  بھٹکل سے  فرار ہوکر کمٹہ میں چھپنے کی کوشش کرنے والے انیس باشہ کو بھی  گرفتار کرلیا۔

  منصور دراصل لڑکے کو انکولہ سے گوا  کے کلنگوڈ   میں واقع گیسٹ ہاوس میں پہنچایا تھا، اور وہ وہاں سے واپس   بھٹکل جانے کے لئے  نکلا تھا، جب اسے کاروار میں گرفتار کیا گیا تو  پولس کو پھر ایک بار  لگا کہ  وہ   منصور کے ذریعے   سیدھے متعلقہ ہوٹل پہنچ کر لڑکے  کو اغوا کاروں کے چنگل سے چھڑانے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن   منصور انہیں   گوا کے  پنجی لے گیا اور اِدھر سے اُدھر گھماتا رہا، لیکن  جس ہوٹل میں لڑکے کو رکھا گیا تھا،  کافی کوششوں کے باوجود    پولس کو متعلقہ ہوٹل کا پتہ نہیں بتایا ۔ ایک طرف    عبدالحنان  نے اپنا لوکیشن بدلنے کے ساتھ سم بدل دیا تھا، تو دوسری طرف ڈرائیو رمنصور بھی لڑکے کو بازیافت کرانے  کسی بھی طرح کا تعاو ن نہیں کررہا تھا۔ عبدالحنان کے بھائی بھی اس موقع پر پریشان ہوگئے کہ  اب معصوم  لڑکے  کو کہاں ڈھوندیں اور اُسے کیسے بازیافت کریں۔  جب پولس   کو   اپنی کوششوں پر پانی پھر تا نظر آیا  تو  اتوار  رات قریب  ساڑھےبارہ  بجے  بھٹکل ڈی وائی ایس پی  بیلی ایپّا نے   تنظیم کےذمہ داروں کو  خبر کی کہ پولس کے پاس اب  کوئی دوسرا چارہ نہیں بچا ہے کہ پولس   عنایت اللہ اسحاقی  کے  گھر  پر چھاپہ مارے اور گھر والوں کو تحویل میں لے  کر اُن پر سختی کرے  اور  لڑکے کو جس ہوٹل میں رکھا گیا ہے، اُس کا   پتہ حاصل کرے۔

اس موقع پر تنظیم کے ذمہ داران سیدھے   عنایت اللہ اسحاقی کے بھٹکل بندر روڈ پر واقع گھر پہنچ  گئے اور اُس کی اہلیہ سمیت دیگر گھروالوں کو پولس کے منصوبے کے تعلق سے  خبر دی اور  انہوں نے   اسحاقی  کی اہلیہ کو  بتایا کہ اگر انہوں نے سعودی عربیہ میں موجود   اسحاقی سے رابطہ کرکے    لڑکے کو رکھے گئے ٹھکانے کا پتہ حاصل نہیں کیا تو  پھر  پولس کی کاروائیوں سے  بچانے کے لئے تنظیم یا فیڈریشن کسی بھی طرح کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔    بتایا گیا ہے کہ اسحاقی کی اہلیہ نے  اسحاقی سے فون پر رابطہ کرنے کی کافی کوشش کی، مگر اسحاقی فون  ریسیو نہیں کررہا تھا، کافی کوششوں کے بعد رات قریب ڈھائی بجے  اسحاقی سے رابطہ ہوا تو اس نے  تنظیم ٹیم کو گوا جانے کی صلاح  دی اور کہا کہ راستے پر وہ  ہوٹل کا صحیح پتہ بتائے گا۔

تنظیم ٹیم  جب گوا جانے کے لئے نکلی تو   ایک نامعلوم شخص نے آئی ایم او کے ذریعے  تنظیم ٹیم کے ایک ذمہ دار سے رابطہ کیا اور اُنہیں  بتایا کہ وہ سیدھے گوا کے مابسا    مارکٹ پہنچے۔ لیکن جب تنظیم ٹیم انکولہ  ٹول گیٹ سے آگے بڑھی تو  اُسی شخص نے دوبارہ رابطہ کیا اور بتایا کہ  لڑکا مابسا میں نہیں بلکہ  کلنگوڈ  کے ایک ہوٹل میں ہے۔ اُس نے  تنظیم ٹیم کو یہ بھی بتایا کہ  وہ پولس  کو لئے بغیر جلد سے جلد کلنگوڈ ہوٹل پہنچے اور لڑکے کو وہاں سے لے  جائے ۔ اغوا کار  پھر بار بار رابطہ کرنے لگا  اور جلدی  کرنے لگا کہ  لڑکے کے پاس فوراً  پہنچے اور اُسے لے جائے ، کیونکہ وہ خود متعلقہ ہوٹل کو چھوڑ کر بھٹکل پہنچ گیا ہے۔ پہلی بار  تنظیم  ٹیم کے  اراکین کے پسینے چھوٹنے لگے کہ کہیں لڑکے کو کچھ نقصان نہ پہنچایا گیا ہو، اس لئے انہوں نے فوراً پہلے سے گوا کے پنجی  میں  موجود پولس انسپکٹر دیواکر سے رابطہ کیا اور اسے  متعلقہ ہوٹل کا اڈرس اور کمرہ نمبر بتایا، جہاں پولس نے قریب ساڑھے پانچ بجے دھاوا بولا اور متعلقہ کمرے سے لڑکے کو صحیح سلامت بازیافت کیا۔

واقعے کو لےکر سوشیل میڈیا  پر  بہت سارے لوگ اپنے اپنے طو پرتاثرات پیش کررہے  ہیں  اور اٖغوا کے ماسٹر مائنڈ عنایت اللہ اسحاقی کو کوس رہے ہیں، ایسے میں عنایت اللہ اسحاقی جو سعودی عربیہ کے جدہ میں مقیم ہے، کی آڈیو کلپ بھی سوشیل میڈیا کے ذریعے  منظر عام پر آئی ہے۔ جس کے مطابق اس نے تین، چار  سال پہلے اپنی ہی بھانجی کے شوہر معین الاسلام  سعدا کو کچھ رقم اُدھار دیا تھا، سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے والی اسحاقی کی بات مانیں تو اس نے اپنی رقم واپس حاصل کرنے کی کافی کوشش کی تھی، مگر ناکام رہا تو اس نے  معین الاسلام  کے معصوم لڑکےعلی کواغوا کرنے کا پلان بنایا، اسحاقی نے اپنے وضاحتی آڈیو بیان میں لڑکے کے اغوا پر  بھٹکل کے عوام سے معافی بھی مانگی ہے مگر یہ بھی  کہاہے کہ اس نے چوتنی میں واقع اپنی چکن کی دکان چلانے والے انیس باشہ کو ہدایت دی تھی  کہ وہ  اسلام کو صرف ڈرانے کے مقصد سے اُس کے لڑکے کوایک دن کے لئے اُٹھا کراپنے گھر لے جاکررکھے، لیکن اس کی باتوں میں کتنی سچائی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انیس نے لڑکے کو اُٹھاکر اپنے گھر میں لے جاکر نہیں رکھا تھا بلکہ اپنے ساتھیوں کے ذریعے   لڑکے کو اغوا  کراتے ہوئے   گوا  روانہ  کیا تھا،  اسحاقی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ انیس  باشہ کوچھوڑ کر کسی اور کو نہیں جانتا مگر  تنظیم  ٹیم  کے اراکین کی بات مانیں تو جب ان کی ٹیم  گوا کے لئے نکلی تو عنایت اللہ اسحاقی کسی اور  شخص کے ذریعے ا ُن کو خبر دے رہا تھا کہ گوا میں کہاں جانا ہے، ہوٹل کے کس کمرے میں لڑکے کو رکھا گیا ہے۔ وغیرہ۔ اس بات کا پتہ نہیں لگ پایا کہ  تنظیم ٹیم کو  خبر دینے والا عبدالحنان ہی تھا یا کوئی اور تھا۔

بہرحال پولس نے اب تک تین لوگوں ابرار، محمد منصور اور انیس باشہ کو گرفتارکرچکی ہے۔ عبدالحنان ابھی بھی فرار ہے، جبکہ اس کیس کا اہم ملزم عنایت اللہ اسحاقی سعودی عربیہ میں رہتا ہے۔  پولس نے  تینوں گرفتار شدگان کو  بدھ کے روز عدالت میں پیش کرکے پانچ دنوں کے لئے پولس کسٹڈی حاصل کی ہے اور  اس کیس میں مزید کون کون لوگ ملوث ہیں، اُس کا بھی پتہ لگارہی ہے۔


Share: